ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ”سرحدوں کا تعین ایک یا دو ملاقاتوں سے طے نہیں ہوتا“ ہند-چین کشیدگی برقرار:وزرائے دفاع کے بعد وزرائے خارجہ کی ملاقات متوقع

”سرحدوں کا تعین ایک یا دو ملاقاتوں سے طے نہیں ہوتا“ ہند-چین کشیدگی برقرار:وزرائے دفاع کے بعد وزرائے خارجہ کی ملاقات متوقع

Mon, 07 Sep 2020 10:55:11    S.O. News Service

نئی دہلی،7؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) لداخ کے متنازع علاقے میں ایشیا کی 2 جوہری طاقتوں میں تشویشناک کشیدگی کے تناظر میں ہندوستانی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور چین کے وزیر دفاع وے فنگخا کے درمیان ہفتے کو ہوئی ملاقات گرچہ کہ ناکام رہی لیکن اس کے بعد دونوں ملکوں کی طرف سے علاحدہ علاحدہ بیانات جاری کئے گئے جن میں کشیدگی کو پر امن طریقے سے کم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے-

اس سال مئی سے مشرقی لداخ میں جاری فوجی کشیدگی کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر یہ پہلی بالمشافہ ملاقات تھی- اس سے پہلے اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے درمیان کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں لیکن ان کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا-اس سال جون کی 15 تاریخ کو وادیء گلوان میں دونوں ملکوں کے فوجیوں میں دست بدست لڑائی میں ہندوستان کے 20 فوجی ہلاک ہو گئے تھے- اس لڑائی میں چین کی طرف بھی جانی نقصان ہونے کی اطلاعات تھیں لیکن چین نے سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی-

دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع کے درمیان یہ ملاقات ہفتے کو ماسکو کے ایک ہوٹل میں ہوئی اور دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہی- ملاقات کے بعد سامنے آنے والے بیانات میں کافی تضاد پایا جاتا ہے-چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز میں، جس کو چینی حکومت کا ترجمان بھی تصور کیا جاتا ہے، اتوار کو شائع ہونے والے ایک اداریہ میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع کے درمیان ملاقات نے ستمبر کی 10 تاریخ کو چینی وزیر خارجہ وانگ یی اورہندوستانی وزیر خارجہ سْبرامنیم جے شنکر کی ملاقات کے لئے ٹھوس بنیاد فراہم کر دی ہے-گلوبل ٹائمز نے اس ملاقات کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ چین اورہندوستان، جو دو بڑی جوہری طاقتیں ہیں اور بڑی تعداد میں فوجیوں کو سرحدوں پر تعینات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، انھیں اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ سرحدوں کا تعین کرنے کے معاملات ایک یا دو ملاقاتوں میں طے نہیں کئے جا سکتے-

اخبار نے صبر اور تحمل سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 2 نکات ایسے ہیں کہ جن کی وضاحت ہونا ضروری ہے- اول یہ کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد، جسے لائن آف ایکچول کنٹرول کہا جاتا ہے، کا تعین نہیں ہو سکا ہے اور اس میں روز رد و بدل نہیں ہونی چاہئے-اس ضمن میں سب سے اہم بات جو اس اخبار کی طرف سے کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ سات نومبر 1959 کی سرحد کو بنیاد بنا کر اس سرحدی تنازع کو حل کیا جانا چاہئے -

اخبار نے خبر دار کیا کہ اگر دونوں ملک اپنی مرضی سے ایل اے سی میں تبدیلیاں کرتے رہیں گے تو پھر تصادم کا خطرہ پیدا ہو گا جس کے نتائج بہت سنگین ہو سکتے ہیں -اس اداریہ میں سرحدی تنازع کی سنگینی اور پیچیدگی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دوسری اہم بات اور نکتہ یہ ہے کہ چین اور ہندوستان دو ترقی پذیر معیشتیں ہیں جو اپنی اقتصادی ترقی کو بہت اہمیت دیتی ہیں اور دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کی نوعیت سے ان کی معاشی ترقی پر گہرے اثرات پڑیں گے-اداریہ میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو صرف سرحدی تنازع کی روشنی میں نہیں دیکھا جانا چاہئے اور دانشمندی سے کام لیا جانا چاہئے-


Share: